Kisanworld Urdu Blogs

ہائبرڈ گندم: زراعت میں ایک نئے دور کا آغاز، پاکستان میں کب آئے گی؟

سنجینٹا، بائر اور باسف ہائبرڈ گندم کی دوڑ میں ہیں۔ ہائبرڈ گندم کیسے بنتی ہے، مکئی سے اتنی پیچھے کیوں رہی، اور پاکستان میں کب آئے گی؟ Hybrid gandum ki mukammal tafseel.

ہائبرڈ گندم کی تیاری کیلئے گندم کی بالیوں پر پولی نیشن بیگ – hybrid gandum research

تحریر: چوہدری افتخار سندھو (قائدِ اعظم گولڈ میڈلسٹ)

کیا ایک ہی ایکڑ سے کہیں زیادہ گندم حاصل کی جا سکتی ہے؟ ہائبرڈ گندم کا یہی وعدہ ہے، اور دنیا کی بڑی بیج کمپنیاں اسے کسانوں تک پہنچانے کی دوڑ میں لگ چکی ہیں۔

⚡ اس تحریر کے اہم نکات

  • ہائبرڈ گندم دو مختلف اقسام کے ملاپ سے تیار ہوتی ہے، اس کے پودوں میں کوئی جینیاتی تبدیلی نہیں کی جاتی۔
  • سنجینٹا، باسف اور بائر جیسی عالمی کمپنیاں ہائبرڈ گندم متعارف کرانے کی دوڑ میں ہیں۔
  • ہائبرڈ مکئی 1930 کی دہائی سے کاشت ہو رہی ہے، گندم پیچیدگی اور لاگت کی وجہ سے پیچھے رہ گئی۔
  • پاکستان اور چین ہائبرڈ گندم پر تحقیق کر رہے ہیں، لیکن ابھی کسانوں کیلئے تجارتی بیج دستیاب نہیں۔

کرہ ارض پر انسانی آبادی میں مسلسل تیز رفتار اضافے اور اہم زرعی اجناس کی ترسیل میں کمی کے رجحان کا مقابلہ کرنے کیلئے زرعی اجناس کے بیج تیار کرنے والی دنیا کی بڑی کمپنیاں ایسی ورائٹیز کی تیاری میں مصروف ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ سِنجَینٹا (Syngenta) کا شمار دنیا کی بیج تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے اور یہ کمپنی چین کی ملکیت ہے۔ اس کمپنی کی طرف سے اگلے سال سات ہزار ایکڑ رقبے پر گندم کی ایسی نئی ورائٹی کاشت کی جائے گی جو ہائبرڈ گندم کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ جرمن کمپنیاں باسف ایس ای (BASF SE) اور بائر اے جی (Bayer AG) بھی اس تیاری میں ہیں کہ جلد از جلد ہائبرڈ گندم کی اپنی ورائٹیز متعارف کرا سکیں۔

📌 2026 کی تازہ صورتحال: سنجینٹا نے امریکہ میں ہائبرڈ گندم کا ابتدائی محدود اجراء تقریباً 5 سے 7 ہزار ایکڑ کیلئے کیا تھا۔ اب کمپنی یورپ (فرانس، برطانیہ اور جرمنی) میں 2026 میں ہائبرڈ گندم کے مکمل تجارتی اجراء کی تیاری کر چکی ہے۔ کمپنی کے مطابق ہائبرڈ گندم عام اقسام کے مقابلے میں تقریباً 10 سے 12 فیصد زیادہ پیداوار دیتی ہے۔

ہائبرڈ گندم کیسے تیار کی جاتی ہے؟

کسان بھائیو! آئیں آپ کو بتاتے ہیں کہ ہائبرڈ گندم کیسے تیار کی جاتی ہے۔

زرعی تحقیق کرنے والے ماہرین ہائبرڈ گندم اس طرح تیار کرتے ہیں کہ وہ عام گندم کے پودوں کی اپنی پولی نیشن کرنے کی قدرتی صلاحیت اس طرح ختم کر دیتے ہیں کہ کھیتوں میں مادہ پودوں کی پولی نیشن ایک دوسری قسم کے نر پودوں سے کی جاتی ہے۔ اس طرح گندم کا جو نیا اور منفرد بیج اس زرعی جنس کی دو مختلف اقسام کے ملاپ سے تیار ہوتا ہے، وہ ہائبرڈ کہلاتا ہے۔ یوں تیار کئے جانے والے بیج گندم کی دو مختلف ورائٹیز کے امتزاج کے باعث نہ صرف پیداوار بہت ہی زیادہ ہوتی ہے بلکہ ان میں اپنی پچھلی نباتاتی نسل کے مقابلے میں ناموافق ماحولیاتی اور موسمیاتی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ہائبرڈ ورائٹی کا سب سے بڑا فائدہ، اور ایک قدرتی مشکل

کسان دوستو! کسی بھی زرعی جنس کی ہائبرڈ ورائٹی تیار کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں دو مختلف نباتاتی ورائٹیز کی تمام مثبت خصوصیات یکجا کر دی جاتی ہیں۔ اس عمل کا تاہم ایک قدرتی نقصان بھی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب گندم کی کسی ایک ورائٹی میں نر اور مادہ پودوں کے مابین پولی نیشن کا عمل ہواؤں کی مدد سے قدرتی طور پر انجام پاتا ہے تو سبھی مادہ پودوں کی پولی نیشن ہو جاتی ہے۔ اگر یہی پولی نیشن انسانی مداخلت کے نتیجہ میں اور غیر قدرتی انداز میں کی جائے تو کئی مادہ پودوں کی پولی نیشن نہیں ہو پاتی، لیکن ماہرین اس کا بھی کوئی نہ کوئی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

ہائبرڈ فصلیں آج کہاں تک پہنچ چکی ہیں؟

کسان دوستو آئیں اب آپ کو بتاتے ہیں کہ ہائبرڈ فصلیں کس حد تک ہمارے زیر استعمال ہیں؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک میں کسان کم از کم مکئی کی ہائبرڈ ورائٹی تو 1930 کی دہائی سے اگا رہے ہیں۔ ہائبرڈ فصل کی پیداوار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کے مختلف نباتاتی بیماریوں یا نقصان دہ کیڑوں کا شکار ہو جانے کا خدشہ بھی بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اب تک جن سبزیوں کی ہائبرڈ ورائٹیز اگانے کا طریقہ بھی رائج ہو چکا ہے ان میں پیاز، پالک اور ٹماٹر شامل ہیں۔

کسان دوستو! ہائبرڈ گندم کے بیج تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کام کیلئے ہائبرڈ مکئی اور ہائبرڈ جو تیار کرنے کے حوالے سے اپنے اسی تجربے کو استعمال کیا جس کے نتیجے میں 1930 کی دہائی کے مقابلے میں 1990 کے عشرے تک مکئی کی پیداوار میں 600 فیصد اضافہ ہو چکا تھا۔

ہائبرڈ گندم مارکیٹ میں آنے میں تاخیر کیوں؟

کسان بھائیو! چینی کمپنی سِنجَینٹا کا شمار بیج تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے مطابق مکئی کی پیداوار میں چھ گنا تک کا حیران کن اضافہ جزوی طور پر ہائبرڈ مکئی تیار کرنے سے ہی ممکن ہوا، جبکہ اسی عرصے میں گندم کی پیداوار میں بھی تقریباً اڑھائی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہائبرڈ گندم سے پیداوار میں دگنا اضافہ کیا جا سکتا ہے تو پھر ہائبرڈ گندم کے مارکیٹ میں آنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مکئی اور جو کے مقابلے میں ہائبرڈ گندم کے عالمی منڈیوں میں تجارت کیلئے پہنچنے میں مقابلتاً کافی تاخیر اس لئے ہوئی کہ ہائبرڈ گندم کی تیاری زیادہ پیچیدہ اور کافی مہنگا عمل ہے۔

ہائبرڈ فصلوں کی تیاری کی خاص بات یہ ہے کہ ان کیلئے متعلقہ فصل کے پودوں میں کوئی جینیاتی تبدیلیاں نہیں کی جاتیں، بلکہ اس کے برعکس قانوناً جین موڈیفائیڈ آرگنزم (GMO) یا جینیاتی تبدیلیوں والا جاندار کے لیبل سے بچنے کیلئے اور پیداوار میں اضافے کیلئے ہائبرڈ ورائٹیز تیار کی جاتی ہیں۔ جینیاتی تبدیلیوں کے بعد تیار کی جانے والی مکئی اور سویابین کی ورائٹیز 1996ء میں تیار کی گئی تھیں جنہیں اب پولٹری فیڈز، جانوروں کی خوراک، حیاتیاتی ایندھن اور کوکنگ آئل جیسی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اقسام دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ، برازیل اور ارجنٹائن میں وسیع تر رقبے پر اگائی جانے لگی تھیں۔

جینیاتی تبدیلیوں والی ہائبرڈ گندم کی وسیع تر تجارتی پیمانے پر کاشت آج تک اس لئے رواج نہ پا سکی کہ اس بارے میں صارفین میں کئی طرح کے شکوک و شبہات اور خدشات پائے جاتے تھے۔ خاص طور پر یہ خدشات کہ ایسی گندم کے استعمال سے، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی زرعی اجناس میں سے ایک ہے، عام انسانوں میں ممکنہ طور پر خاص طرح کی الرجی اور دیگر طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکی ریاست شمالی ڈکوٹا میں پارک ریور کے مقام پر ہینکی سیڈ کمپنی کے مالک ڈیو ہینکی کہتے ہیں کہ جینیاتی تبدیلیوں والی ہائبرڈ گندم کی عام صارفین میں مخالفت کے باوجود یہ امکان زیادہ ہے کہ بہت جلد صارفین ہائبرڈ گندم کو زیادہ محفوظ اور بہتر سمجھیں گے۔ "مجھے یقین ہے کہ عام عوام کی عمومی سوچ یہی ہو گی کہ ہائبرڈ گندم ہی انسانی اور حیوانی صحت کیلئے سب سے زیادہ محفوظ ہے۔"

💡 اہم وضاحت: ہائبرڈ اور جی ایم او میں فرق
ہائبرڈ گندم اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GMO) گندم دو الگ چیزیں ہیں۔ ہائبرڈ گندم دو اقسام کے قدرتی ملاپ سے بنتی ہے اور اس کے ڈی این اے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، جبکہ جی ایم او گندم میں لیبارٹری میں براہِ راست جینیاتی تبدیلی کی جاتی ہے۔ صارفین کے خدشات بنیادی طور پر جی ایم او گندم کے بارے میں ہیں۔

ارجنٹائن کی مثال: خشک سالی کا مقابلہ کرنے والی گندم

کسان دوستو! ہائبرڈ گندم کے ممکنہ فوائد کی بات کرتے ہوئے آپ کو بتائیں کہ ارجنٹائن کی ایک بائیو ٹیکنالوجی کمپنی جینیاتی طور پر ترمیم شدہ ایسی ہائبرڈ گندم کی تیاری پر کام کر رہی ہے جو خاص طور پر خشک سالی کے اثرات کا بہت اچھی طرح مقابلہ کر سکے گی۔ اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وقت گزرنے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے شدید ہوتے جانے کے ساتھ ساتھ عام صارفین میں جینیاتی تبدیلیوں والی فصلوں کی تجارتی پیداوار کو قبول کرتے جانے کا رحجان بھی زیادہ ہوتا جائے گا۔

پاکستان میں ہائبرڈ گندم: 40 سے 50 فیصد اضافے کی امید

کسان دوستو اب بات کرتے ہیں پاکستان میں ہائبرڈ گندم کی۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی عنقریب ہائبرڈ گندم کی کاشت کر کے اپنی گندم کی پیداوار میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ کرنے والا ہے۔ پاکستان اور چین کے محققین پاکستان میں گندم کی زیادہ پیداوار کیلئے ہائبرڈ بیج تیار کرنے کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانی اور چینی محققین پاکستان میں فصلوں کی اوسط پیداوار بڑھانے کیلئے گندم کی ہائبرڈ اقسام پر مسلسل ریسرچ کر رہے ہیں۔ ہائبرڈ اقسام کے بیج کے استعمال کا مقصد خشک سالی، بیماریوں اور آب و ہوا کی غیر یقینی صورتحال اور فی یونٹ رقبہ پر زیادہ پیداوار والی فصلیں کاشت کرنا ہے۔

پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت چین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون اور ہم آہنگی کی منتظر ہے۔ حالیہ سیلاب سے ملک میں گندم کا تقریباً 4 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں۔ حکومت پہلے ہی مقامی استعمال کیلئے تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کر چکی ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے سمارٹ ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہے۔ گندم کے ہائبرڈ بیج کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک مشینری اور فصل کو تباہ کن آفات سے بچانے کیلئے سائنٹیفک اسٹوریج سسٹم کی ضرورت ہے۔

📌 2026 کی تازہ صورتحال: پاکستان میں ہائبرڈ گندم پر تحقیق کا دائرہ بڑھ چکا ہے۔ ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فیصل آباد، ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد آسٹریلوی ماہرین کی تکنیکی مدد سے مشترکہ پروگرام چلا رہے ہیں۔ پاکستان اور چین کی تحقیق میں پیداوار میں اضافے کی صلاحیت 20 سے 70 فیصد تک بتائی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ابھی تک پاکستان میں ہائبرڈ گندم کی کوئی قسم تجارتی کاشت کیلئے جاری نہیں ہوئی۔

پاکستانی کاشتکاروں کیلئے بڑی خوشخبری

کسان دوستو! پاکستانی کاشتکاروں کیلئے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ حکومتی اور پرائیویٹ ریسرچ اداروں کے ریسرچ فارمز پر 200 نئی ایڈوانس لائنز کے ساتھ حکومت چین نے ہائبرڈ گندم کے بیج کے کامیاب تجربات کیے ہیں، اور اب وہ دن دور نہیں کہ پاکستانی کاشت کاروں کیلئے بہت جلد گندم کا ہائبرڈ بیج دستیاب ہو گا، جس سے پاکستان کی گندم کی پیداوار 40 سے 50 فیصد تک بڑھ جائے گی اور پاکستان گندم درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکل کر گندم برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا، ان شاءاللہ۔

❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ہائبرڈ گندم کیا ہے؟ (Hybrid gandum kya hai?)
ہائبرڈ گندم دو منتخب اقسام کے ملاپ سے تیار کی جاتی ہے، تاکہ نئے پودے میں دونوں کی خوبیاں یکجا ہو جائیں۔ یہ عام طور پر زیادہ پیداوار اور سخت حالات کا بہتر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کیا ہائبرڈ گندم جی ایم او ہے؟ (Kya hybrid gandum GMO hai?)
نہیں۔ ہائبرڈ گندم قدرتی ملاپ سے بنتی ہے اور اس کے ڈی این اے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ جی ایم او میں لیبارٹری میں براہِ راست جینیاتی تبدیلی کی جاتی ہے۔

ہائبرڈ گندم کتنی زیادہ پیداوار دیتی ہے؟ (Hybrid gandum ki paidawar)
یہ ورائٹی اور حالات پر منحصر ہے۔ سنجینٹا کے مطابق عام اقسام سے تقریباً 10 سے 12 فیصد زیادہ، جبکہ پاکستان اور چین کی تحقیق میں 20 سے 70 فیصد تک کی صلاحیت بتائی گئی ہے۔

کیا پاکستان میں ہائبرڈ گندم کا بیج دستیاب ہے؟ (Hybrid gandum ka beej Pakistan mein)
ابھی نہیں۔ پاکستان میں ہائبرڈ گندم کی کوئی قسم ابھی تجارتی کاشت کیلئے جاری نہیں ہوئی۔ اس سیزن کیلئے کسان منظور شدہ زیادہ پیداوار والی اقسام کاشت کر سکتے ہیں۔

🌾 اس سیزن گندم کی کاشت کا منصوبہ بنا رہے ہیں؟

ہائبرڈ گندم کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ رزق 2026، پنجاب سیڈ کونسل کی حال ہی میں منظور کردہ زنک سے بھرپور نئی ورائٹی، 85 من فی ایکڑ تک پیداواری صلاحیت، کنگی کے خلاف مدافعت اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وقتِ کاشت: 15 اکتوبر تا 15 نومبر۔

بیج کی بکنگ کیلئے کسان ورلڈ مارکیٹنگ لاہور سے واٹس ایپ کریں: 03226780242

یہ مضمون انگریزی میں پڑھیں: Hybrid Wheat: A New Era of Agriculture

Keep reading

Related articles