ریسرچ ٹیم: آنسہ بینظیر، ڈاکٹر محمد بابر شہزاد افضل، محمد رضوان، ڈاکٹر عماد احمد (شعبہ تحقیقات مگس بانی و کوہستانی حشرات اثمار راولپنڈی، شعبہ تحقیقات مگس بانی و کوہستانی حشرات اثمار مری)
تعارف
شہد قدرت کی عطا کردہ ان نعمتوں میں سے ہے جو غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ قرآنِ مجید میں سورۃ النحل میں شہد کو لوگوں کیلئے شفا قرار دیا گیا ہے۔ جدید سائنس بھی شہد کی غذائی اور طبی خصوصیات کی تصدیق کرتی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پنجاب اس کی زرعی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہاں سرسوں، برسیم، شیشم، کینو، یوکلپٹس، بیری اور پھلائی جیسے شہد دینے والے پودے وافر ملتے ہیں۔ اس لئے پنجاب میں شہد کی مکھیوں کی منظم پرورش کیلئے بہت اچھے مواقع موجود ہیں۔
غذائی اہمیت
شہد توانائی کا فوری ذریعہ ہے۔ اس میں موجود فرکٹوز اور گلوکوز جیسی سادہ شکریں جسم میں آسانی سے جذب ہو جاتی ہیں۔ تقریباً 100 گرام شہد سے 300 کلو کیلوری کے لگ بھگ توانائی ملتی ہے۔ یہ سفید چینی کا بہترین متبادل سمجھا جاتا ہے تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو اس کا استعمال معالج کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
طبی اہمیت
شہد میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ (گلوکوز آکسیڈیز انزائم کے سورس)، کم نمی، تیزابیت اور فینولک مرکبات کی وجہ سے جراثیم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ روایتی طب میں کھانسی، گلے کی خرابی، نظامِ ہضم کے مسائل اور زخموں کے علاج میں استعمال ہوتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس (فلیونائیڈز اور فینولک تیزاب) جسم کو آکسیڈیٹیو دباؤ سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
زرعی اہمیت
شہد کی مکھیاں شہد سے بھی بڑھ کر پولینیشن (زیرگی) کے ذریعے زراعت کو بے پناہ فائدہ پہنچاتی ہیں۔ کینو، سرسوں، سورج مکھی، کپاس، سبزیوں اور باغات کی پیداوار میں شہد کی مکھیوں کی موجودگی سے نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ کئی فصلوں میں پولینیشن کا فائدہ شہد کی آمدنی سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔
معاشی اور سماجی اہمیت
شہد کی مکھیاں پالنا کم سرمائے اور کم زمین میں شروع ہو سکتا ہے، اس لئے یہ بغیر زمین کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کیلئے انتہائی منافع بخش ذریعہ آمدن ہے۔ شہد کے ساتھ موم، پولن، پروپولس، رائل جیلی اور مکھی کے کالونی یونٹس کی فروخت سے اضافی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ مقامی اور بیرونی منڈیوں خصوصاً خلیجی ممالک میں پاکستانی شہد، خاص طور پر بیری اور پھلائی کے شہد کی بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے۔
شہد کی مکھیوں کی اقسام
یورپین مکھی (ایپس میلیفرا): یہ شہد کی بہت ہی مشہور مکھی ہے جو منظم ڈبوں میں پالی جاتی ہے۔
ایشیائی مکھی (ایپس سیرانا): یہ شمالی ایشیائی شہد کی مکھی ہے جو زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔
بڑی جنگلی مکھی (ایپس ڈورساٹا): یہ جنگلی یا چٹانی مکھی ہے جس کے کھلے چھتے پالنا ممکن نہیں۔
چھوٹی مکھی (ایپس فلوریا): چھوٹی مکھی جھاڑیوں میں چھوٹے چھوٹے چھتے بناتی ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب میں تجارتی سطح پر منظم شہد کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار یورپین مکھی ایپس میلیفرا پر ہے۔ اس کی خصوصیات میں نسبتاً کم ڈنک مارنا، زیادہ شہد جمع کرنا اور ڈبوں میں آسانی سے پرورش پانا ہیں۔
پنجاب میں شہد کے اہم ذرائع (فلورا) اور موسمی کیلنڈر
پنجاب کی آب و ہوا کی بنا پر یہاں سال بھر مختلف پودوں سے شہد حاصل ہوتا ہے:
سرسوں اور توریا: سرسوں اور توریا کی فصل جنوری تا فروری، موسمِ سرما میں کالونیوں کی افزائش کیلئے اہم ہیں۔
برسیم کی فصل: برسیم کی فصل فروری تا اپریل بہت اچھا ذریعہ ہے اور اس سے ہلکے رنگ کا شہد حاصل ہوتا ہے۔
کینو اور کھٹی کے باغات: ترشاوہ باغات سے سرگودھا، خوشاب اور دیگر اضلاع میں مارچ کے لگ بھگ خوشبودار اور لذیذ شہد ملتا ہے۔
پھلائی کے درخت: مارچ تا اپریل، پوٹھوہار، سالٹ رینج اور چکوال کے علاقوں میں مشہور اور اعلیٰ معیار کا شہد ملتا ہے۔
شیشم (ٹاہلی): شیشم جس کو پنجاب میں ٹاہلی کہتے ہیں، موسمِ بہار میں ایک اہم درختی ذریعہ ہے۔
بیری کا درخت: ستمبر تا اکتوبر، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مہنگا اور مقبول ترین شہد پیدا ہوتا ہے۔
سورج مکھی، کپاس اور دیگر فصلیں: مخصوص موسم میں دیگر فصلوں کے پھولوں سے حاصل ہونے والا شہد بھی اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔
نقل مکانی کی مکھی پروری: پنجاب کے بہت سے مکھی پال اپنے ڈبے ٹرکوں پر لاد کر موسم کے مطابق منتقل کرتے ہیں مثلاً سرسوں کیلئے وسطی پنجاب، پھلائی کیلئے پوٹھوہار اور سالٹ رینج اور سردیوں میں جنوبی پنجاب اور سندھ کے گرم علاقوں کی طرف۔ اس سے شہد کی پیداوار میں اضافہ اور کالونیوں کی صحت بہتر رہتی ہے۔
شہد کی ترکیب اور دیگر خصوصیات
شہد بنیادی طور پر شکر اور پانی کا محلول ہے لیکن اس میں سینکڑوں چھوٹے اجزاء بھی ہوتے ہیں۔ عمومی ترکیب کچھ یوں ہے (فیصد تقریباً پھولوں اور موسم کے مطابق تبدیل ہوتی ہے):
پانی (نمی): 15 تا 20 فیصد
فرکٹوز: 35 تا 40 فیصد
گلوکوز: 28 تا 35 فیصد
سکروز: 1 تا 5 فیصد
مالٹوز اور دیگر شکریں: 5 تا 10 فیصد
پروٹین و امینو ایسڈ: 0.2 تا 0.5 فیصد
نامیاتی تیزاب (جیسے گلوکونک ایسڈ): 0.2 تا 0.5 فیصد
معدنیات (پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، آئرن وغیرہ): 0.1 تا 0.5 فیصد
انزائمز (انورٹیز، ڈائیسٹیز، گلوکوز آکسیڈیز): قلیل مقدار
فینولک مرکبات، فلیونائیڈز اور وٹامن: قلیل مقدار
دیگر خصوصیات: پی ایچ تقریباً 3.4 سے 6.1 کے ساتھ گاڑھا پن نمی اور درجہ حرارت پر منحصر ہے۔ رنگ ہلکے سنہری سے گہرے بھورے تک جس کا انحصار پھولوں کے ذریعے پر ہے (برسیم اور کینو کا ہلکا، یوکلپٹس اور بیری کا نسبتاً گہرا)۔
شہد کا جمنا: حقیقت یا غلط فہمی؟
شہد کا جمنا ایک قدرتی عمل ہے، خاص طور پر سرسوں کے پھولوں کے شہد میں، جہاں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جم جانا شہد کے خالص ہونے کی نفی نہیں کرتا، یہ عام غلط فہمی ہے۔
شہد کے بین الاقوامی اور برآمدی معیارات
1. بین الاقوامی معیار اور پیرامیٹر حد
شہد کیلئے سب سے معروف معیار کوڈیکس ایلیمنٹیریس کا اسٹینڈرڈ 1981-12 ہے جس کی بنیاد پر کئی ممالک اپنے معیارات بناتے ہیں۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
نمی: زیادہ سے زیادہ 20 فیصد
تحویلی شکریں (فرکٹوز اور گلوکوز): کم از کم 60 گرام فی 100 گرام
سکروز: عموماً زیادہ سے زیادہ 5 گرام فی 100 گرام
پانی میں غیر حل پذیر ٹھوس: زیادہ سے زیادہ 0.1 گرام فی 100 گرام
ہائیڈروکسی میتھائل فرفورل: زیادہ سے زیادہ 40 ملی گرام فی کلوگرام (گرم ممالک کیلئے 80)
ڈائیسٹیز سرگرمی: کم از کم 8 شیڈ یونٹ (بعض اقسام کیلئے 3)
آزاد تیزابیت: زیادہ سے زیادہ 50 ملی ایکویلینٹ فی کلوگرام
برقی موصلیت: پھولوں کے شہد کیلئے عموماً 0.8 ملی سیمنز فی سینٹی میٹر
2. ملاوٹ اور اس کے مسائل
پاکستان میں شہد کی ایک بڑی مشکل ملاوٹ ہے مثلاً چینی کا شیرہ، گلوکوز یا مکئی کے آٹے کی آمیزش یا قبل از وقت کچے شہد کی کٹائی (زیادہ نمی)۔ اس سے صارفین کا اعتماد اور برآمدی مواقع دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ ملاوٹ کی تصدیق کیلئے لیبارٹری ٹیسٹ (نمی، ایچ ایم ایف، ڈائیسٹیز، سکروز، آئسوٹوپ تجزیہ، این ایم آر وغیرہ) استعمال ہوتے ہیں۔ گھریلو ٹیسٹ (پانی میں ڈالنا، آگ پر لگانا) قابلِ اعتماد نہیں۔
3. برآمدی معیار
یورپی یونین اور خلیجی منڈیوں کیلئے ضروری ہے کہ شہد میں اینٹی بایوٹک جیسے کلورام فینیکول، ٹیٹراسائیکلین، کیڑے مار ادویات اور بھاری دھاتوں کی باقیات مقررہ حد سے کم ہوں اور شہد کی اصل شناخت (ٹریس ایبلٹی) واضح ہو۔
منظم کالونیوں میں مکھی پروری کے بنیادی اصول
شہد حاصل کرنے سے پہلے مکھیوں کی صحت مند اور مضبوط کالونی کا ہونا بہت ضروری ہے:
1۔ ڈبہ (لینگسٹروتھ ہائیو): پنجاب میں زیادہ تر ڈبے یا لینگسٹروتھ ہائیو استعمال ہوتا ہے۔ اس میں نچلا بورڈ، بروڈ چیمبر، شہد کے سپر، متحرک فریم اور اندرونی و بیرونی ڈھکن ہوتے ہیں۔ متحرک فریم کی وجہ سے چھتے کو نقصان پہنچائے بغیر معائنہ اور شہد نکالنا ممکن ہے۔
2۔ ملکہ مکھی: ایک کالونی میں ایک ملکہ، ہزاروں کارکن مکھیاں اور موسم کے مطابق نر مکھیاں ہوتی ہیں۔ ہر سال یا دو سال میں ملکہ کی تبدیلی پیداوار برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
3۔ مقام کا انتخاب: صاف پانی کا ذریعہ قریب ہو، سایہ دار اور ہوادار جگہ ہو اور کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ والے کھیتوں سے دور ہو۔
4۔ خوراک اور موسمی انتظام: پھولوں کی کمی کے دنوں، مثلاً شدید گرمی (مئی تا جون) اور مون سون کے بعد، میں چینی کا شیرہ اور پولن کا متبادل دینا پڑتا ہے۔ گرمیوں میں سایہ اور پانی اور سردیوں میں سردی سے بچاؤ اہم ہے۔
5۔ بیماریاں اور دشمن: ورروا مائٹ، نوزیما، یورپی اور امریکی فاؤل بروڈ، موم کا کیڑا، بھڑیں اور چیونٹیاں۔ باقاعدہ معائنہ اور بروقت علاج ضروری ہے۔ شہد کے سپر لگے ہونے کی حالت میں کیمیائی ادویات استعمال نہ کریں تاکہ شہد میں باقیات نہ آئیں۔
شہد نکالنے کا مرحلہ وار طریقہ (9 مراحل)
مرحلہ 1 (پختگی کی پہچان): شہد کی کٹائی کا وقت اس وقت ہوتا ہے جب شہد کے فریم میں تقریباً 80 فیصد یا زیادہ خانے موم کی ٹوپی سے بند ہوں، یہ علامت ہے کہ شہد پک چکا اور نمی مناسب ہے۔ کچا شہد (کھلے خانوں والا) زیادہ نمی کی وجہ سے خمیر ہو سکتا ہے۔ کٹائی عموماً صبح یا شام کے وقت، گرم اور دھوپ والے دن کریں جب مکھیاں پرسکون ہوں۔
مرحلہ 2 (حفاظتی سامان اور تیاری): مکھی پال کو نقاب، دستانے، حفاظتی لباس، سموکر (دھواں دینے والا آلہ) اور ہائیو ٹول درکار ہوتا ہے۔ صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ صاف جگہ، فوڈ گریڈ برتن اور سٹین لیس سٹیل کا سامان بہت ضروری ہے۔
مرحلہ 3 (فریموں سے مکھیاں ہٹانا): ہلکا دھواں دے کر مکھیوں کو پرسکون کریں۔ شہد کے فریم کو آہستہ سے ہلا کر یا بی برش سے مکھیاں ہٹائیں۔ متبادل طریقے کے طور پر بی اسکیپ بورڈ یا بلوئر استعمال کریں۔ مکھیوں کو کچلنے سے بچیں اور فریم کو ڈھانپ کر رکھیں تاکہ لوٹ مار نہ ہو۔
مرحلہ 4 (ڈھکن کاٹنا): گرم چاقو، ان کیپنگ فورک یا الیکٹرک ان کیپنگ چاقو سے موم کی ٹوپی احتیاط سے ہٹائیں۔ موم کی ٹوپیاں الگ جمع کریں، ان سے بعد میں موم اور بچا ہوا شہد حاصل ہوتا ہے۔
مرحلہ 5 (ایکسٹریکٹر سے شہد نکالنا): ان کیپ شدہ فریم ہنی ایکسٹریکٹر میں رکھیں۔ یہ ہاتھ سے یا بجلی سے چلنے والی مشین ہوتی ہے جس میں شہد چھتے سے باہر نکل کر ڈرم کی دیواروں پر گرتا ہے اور نیچے جمع ہو جاتا ہے۔ فریم خالی ہونے کے بعد صحیح سلامت رہتے ہیں اور دوبارہ ڈبے میں رکھے جا سکتے ہیں، جس سے مکھیوں کی محنت اور موم کی بچت ہوتی ہے۔ پہلے فریم کو نرمی سے گھمائیں، پھر رفتار بڑھائیں ورنہ چھتے ٹوٹ سکتے ہیں۔
مرحلہ 6 (چھاننا اور تہہ نشین کرنا): شہد کو ڈبل چھلنی (موٹی اور باریک نائلون یا سٹین لیس سٹیل) سے گزاریں تاکہ موم کے ذرات، مردہ مکھیاں اور ملبہ الگ ہو جائیں۔ شہد کو 24 تا 48 گھنٹے سیٹلنگ ٹینک میں رکھیں۔ ہوا کے بلبلے اوپر آ جاتے ہیں، جنہیں ہٹا دیا جاتا ہے۔
مرحلہ 7 (معیار اور حسی جانچ): ریفریکٹومیٹر سے نمی ناپیں اور نمی 20 فیصد سے کم ہونی چاہیے۔ رنگ، خوشبو، ذائقہ اور صفائی کا جائزہ لیں۔ زیادہ نمی والے شہد کو ڈی ہیومیڈیفائر یا کنٹرولڈ ماحول میں خشک کیا جا سکتا ہے۔
مرحلہ 8 (بوتل بندی، لیبلنگ اور ذخیرہ): شیشے یا فوڈ گریڈ پلاسٹک کی صاف اور خشک بوتلوں میں شہد کو بھریں۔ لیبل پر پھولوں کا ذریعہ، وزن، پیکنگ کی تاریخ، مکھی پال کمپنی کا نام اور پتہ اور لاگو ضوابط کے مطابق مطلوبہ معلومات درج کریں۔ شہد کو ٹھنڈی، خشک اور تاریک جگہ پر سٹور رکھیں۔ دھوپ، نمی اور زیادہ گرمی سے بچائیں۔ شہد کو زیادہ گرم کرنے سے گریز کریں (عموماً 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رہیں)، ورنہ انزائمز ضائع اور ایچ ایم ایف زیادہ ہو جاتا ہے۔ دھات (زنگ آلود) کے برتن استعمال نہ کریں کیونکہ شہد کی تیزابیت دھات سے ردِ عمل کرتی ہے۔
مرحلہ 9 (کٹائی کے بعد کالونی کی دیکھ بھال): شہد نکالنے کے بعد خالی فریم واپس ڈبے میں رکھیں، کالونی کی خوراک اور ذخیرہ دیکھیں اور ورروا اور دیگر بیماریوں کا معائنہ کریں تاکہ اگلے موسم کیلئے کالونی مضبوط رہے۔
پنجاب میں مگس بانی کے مواقع، مسائل اور سفارشات
مواقع
مختلف موسموں میں شہد دینے والی فصلوں اور درختوں کی بہتات، کینو، سرسوں اور سورج مکھی جیسی فصلوں کے ساتھ شہد اور پولینیشن کی دوہری آمدن، بیری اور پھلائی جیسے اعلیٰ اقسام کے شہد کی مقامی اور برآمدی مانگ، اور نوجوانوں و خواتین کیلئے گھریلو سطح پر روزگار اور چھوٹے کاروبار کے شاندار مواقع موجود ہیں۔
درپیش مسائل
ملاوٹ اور معیار پر اعتماد کی کمی
کیڑے مار ادویات کا بے جا استعمال جو مکھیوں کی اموات کا سبب بنتا ہے
پھولوں کی کمی کے موسم (گرمیوں) میں خوراک کی قلت
ورروا مائٹ اور دیگر بیماریاں اور تربیت یافتہ عملے کی کمی
جدید پروسیسنگ لیبارٹریوں، ٹیسٹنگ اور برانڈنگ کی محدود سہولیات
موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی اور بے وقت بارشیں جو پھول آنے کے وقت اور شہد کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں
ماہرین کی سفارشات
مکھی پال حضرات کو سائنسی بنیادوں پر تربیت دی جائے۔
ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی تعداد اور رسائی بڑھائی جائے۔
کسانوں میں کیڑے مار ادویات کے محفوظ استعمال (مثلاً پھولوں کے موسم میں چھڑکاؤ سے پرہیز، شام کے وقت چھڑکاؤ) کا شعور اجاگر کیا جائے۔
پھلائی، بیری اور دیگر مقامی اقسام کے شہد کی جغرافیائی شناخت اور برانڈنگ کی جائے۔
مکھی پال تعاونی انجمنوں کو فروغ دیا جائے تاکہ جمع آوری، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ مشترکہ طور پر ہو۔
شہد دینے والے درخت (شیشم، بیری، پھلائی) شجرکاری مہم کا حصہ بنائے جائیں۔
حاصل کلام
شہد صرف ایک میٹھی غذا نہیں بلکہ غذائیت، صحت، زراعت اور دیہی معیشت کا اہم ستون ہے۔ پنجاب کی زرخیز زمین، متنوع نباتات اور موزوں موسم اسے مکھی پروری کیلئے ایک موزوں خطہ بناتے ہیں۔ اگر سائنسی انتظام، معیار کی پابندی، ملاوٹ کے خاتمے اور مناسب مارکیٹنگ پر توجہ دی جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے بلکہ اعلیٰ معیار کے شہد کی برآمد کے ذریعے قیمتی زرِ مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ منظم کالونیوں سے صاف، محفوظ اور معیاری شہد کا حصول اسی سمت میں ایک پہلا قدم ہے۔
shahad ki makhiyan palna | magas bani in pakistan | beekeeping business in pakistan | shahad ki makhi palne ka tariqa | beri ka shahad price in pakistan | phulai honey pakistan | khalis shahad ki pehchan | honey farming in punjab | apis mellifera pakistan | langstroth hive box price in pakistan | shahad nikalne ka tariqa | honey bee colony for sale in pakistan | varroa mite treatment | kisan world magazine | مگس بانی | شہد کی مکھیاں پالنا | خالص شہد کی پہچان | بیری کا شہد | پھلائی کا شہد | شہد نکالنے کا طریقہ