پوٹھوہار جیسے بارانی علاقوں میں مکئی کی فصل زراعت اور لائیو اسٹاک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں پانی کا دارومدار صرف بارشوں پر ہوتا ہے اس لئے مکئی کو خریف کی ایک انتہائی اہم فصل مانا جاتا ہے۔
مکئی کی فصل کی اہمیت:
(1) یہ کم وقت کی فصل ہے جو 90 سے 120 دن میں مکمل تیار ہو جاتی ہے۔
(2) کم پانی کی ضرورت کے پیش نظر پوٹھوہار کے بارانی نظام کے لئے بہترین ہے۔
(3) غریب اور متوسط طبقے کے لئے گندم کے بعد سستی اور غذائیت سے بھر پور انسانی غذا کا ذریعہ ہے۔
(4) جانوروں کے لئے بطور سبز چارہ اور خشک چارے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(5) مکئی کے دانے اور خشک حصے پولٹری کی فیڈ کے اہم جزو ہیں۔
(6) مکئی کی باقیات کو زمین میں ہل چلا کر دبانے سے بارانی زمینوں میں نامیاتی مادے میں بھر پور اضافہ ہوتا ہے اور زمین کی زرخیری کا سبب بنتا ہے۔
بارانی علاقوں کے کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کے زرعی سائنسدانوں نے مکئی کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے کیڑے لشکری سنڈی کے نقصانات سے بچانے کیلئے سفارشات مرتب کی ہیں۔
لشکری سنڈی کی پہچان:
سنڈی کے سر میں سفید رنگ کی لکیر انگریزی کے حرف Y جیسی نظر آتی ہے۔ آخری دم والے حصے پر چوکور (Square shape) چار نقطے نظر آتے ہیں۔ سنڈی کے باقی حصوں پر چار نقطے اس ترتیب سے ہوتے ہیں کہ دو نقطے قریب اور دو نقطے ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں۔ اگر یہ تمام نشانیاں ایک وقت میں ایک سنڈی پر نظر آئیں تو یہ لشکری سنڈی کی پہچان ہے۔ سنڈی انڈے سے نکلنے کے بعد ہلکی سبز رنگ کی ہوتی ہے جو بعد میں ہلکے بھورے رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
سنڈی کا حملہ اور نقصانات:
لشکری سنڈی مکئی، کپاس، پھل، سبزیات اور دیگر فصلوں پر حملہ آور ہوتی ہے۔ گرمیوں میں سنڈیوں کا دورانیہ 14 سے 20 دن ہوتا ہے جس میں یہ سوراخ اور شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ سنڈیاں شروع میں پتوں پر حملہ آور ہو کر نقصان پہنچاتی ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں چھلیوں کے اندر چلی جاتی ہیں اور شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ لشکری سنڈی کی تمام حالتیں فصل میں نقصان کا سبب ہیں۔ اس کا زیادہ درجہ حرارت میں حملہ شدید ہوتا ہے۔
لشکری سنڈی کا تدارک:
✔ بارانی علاقوں میں بارش کے ساتھ مکئی کی فصل لگانی چاہیے کیونکہ اس وقت درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔
✔ مخلوط کاشت کاری کی جائے مثلاً مکئی کی سویابین کے ساتھ انٹر کراپنگ کی جائے کیونکہ سویابین پر لشکری سنڈی کا حملہ نہیں ہوتا۔
✔ کھیتوں کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھا جائے اور ارد گرد میں بھی جڑی بوٹیوں کی تلفی ممکن بنائی جائے۔
✔ بروقت کھاد کا استعمال کیا جائے۔ ڈی اے پی زمین کی تیاری کے دوران اور یوریا کھاد کا استعمال فصل کے اگاؤ کے ایک ماہ بعد سے شروع کیا جائے۔
✔ فصل کے اگاؤ کے بعد ہر تیسرے دن کھیتوں کا معائنہ کیا جائے اور پتوں پر موجود انڈوں یا سنڈیوں کو بروقت تلف کیا جائے۔
✔ کسان دوست کیڑوں کی حفاظت اور پھیلاؤ کو یقینی بنایا جائے مثلاً طفیلی بھڑیں، زنبور، شکاری کیڑے وغیرہ اور فصلوں، سبزیوں اور پھلوں کے کھیتوں میں سنڈیاں و کیڑے مکوڑے کھانے والے پرندے۔ ان کی حفاظت کے لئے نامیاتی طریقہ کار مثلاً نیم کا عرق یا اسی طرح کی آرگینک ادویات کا سپرے بھی سنڈیوں کے کنٹرول کیلئے مفید ہوتا ہے۔
✔ فصل پر سنڈیوں کے زیادہ حملہ کی صورت میں کیمیکل سپرے مفید ہے:
- 1.Spinosad 240 SC
- 2. Emamectin Benzoate 1.9 EC @ 200ml/Acre
- 3. Combination spray of Emamectin + Leutinoron 5% EC @ 200+200 ml/Acre
- 4. Feprinol + Emamectin Benzoate @ 0.35G/8kg/Acre
