Kisanworld Urdu Blogs

قسط نمبر 02بھیڑ بکریاں پالنا (تجارت بھی، سنتِ رسول ﷺ بھی)

بھیڑ اور بکریاں پالنا نہ صرف ایک منافع بخش تجارت ہے بلکہ یہ سنتِ رسول ﷺ بھی ہے۔ پاکستان میں لائیو اسٹاک فارمنگ کے فوائد، رہائش، خوراک اور نگہداشت کے بارے میں مکمل رہنمائی۔

بھیڑ بکریاں پالنا - تجارت بھی سنتِ رسول ﷺ بھی - پاکستان میں لائیو اسٹاک فارمنگ رہنمائی
بھیڑ اور بکریوں کی رہائش کا مناسب بندوبست 
بھیڑ اور بکریوں کی رہائش ایک اہم موضوع ہے کیونکہ ان جانوروں کی صحت اور پیداوار کا انحصار ان کی رہائشی ماحول پر ہوتا ہے۔  مناسب باڑا اور رہائشی انتظامات ان جانوروں کی حفاظت، آرام اور کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس قسط میں ہم بھیڑ اور بکریوں کیلئے رہائش کے مختلف  پہلوؤں پر تفصیل سے بات کریں گے۔ بھیڑوں اور بکریوں کیلئے باڑا یا رہائش کا انتظام ان کی سیاحت، حفاظت اور کارد گردگی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ مناسب واڑا جانوروں کو سردی، گرمی بارش اور دیگر موسمی اثرات سے بچاتا ہے اور ان کی بہترین نشو و نما کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔

  1. باڑے کی ابتدائی خصوصیات

1۔ تازہ ہوا اور ہوا کی گردش:
باڑا ایسا ہونا چاہیے کہ جانوروں کو تازہ ہوا اور ہوا کی گردش حاصل ہو۔  بند کمرے میں ہوا کی کمی جانوروں کی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ ایک کھلا اور ہوادار باڑا جانوروں کو زیادہ صحت مند رکھتا ہے۔2۔ رہائش کی جگہ: ہر بکری یا بھیڑ کیلئے کم از کم 10سے 15 مربع فٹ جگہ ہونی چاہیے تاکہ وہ آزادی سے حرکت کر سکیں۔ زیادہ جگہ ہونے سے جانور زیادہ سکون محسوس کرتے ہیں اور ان کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
3۔ زمین کا انتخاب:
باڑا زمین سے اونچا ہونا چاہیے تاکہ بارش کے دوران پانی باڑے کے اندر نہ آئے اور زمین نم نہ ہو۔ اس کے علاؤہ باڑے زمین سے دور یا مناسب فاصلے پر ہونے چاہیے تاکہ جانوروں کو شور شرابہ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
4۔ پائیدار اور محفوظ  ساخت: 
باڑے کی دیواریں اور چھت مضبوط اور محفوظ ہونی چاہیے تاکہ جانور باہر سے آنے والے شکاری جانوروں یا دشمنوں سے محفوظ رہیں۔ لکڑی یا دھاتی مواد سے بنائی گئی ساخت زیادہ پائیدار اور قابل اعتماد ہوتی ہیں۔
5۔ گندگی سے بچاؤ:
 باڑے کا فرش صاف ستھرا ہونا چاہیے اور اس میں پانی کا بہاؤ مناسب طریقے سے ترتیب دیا جانا چاہیے تاکہ گندگی اور فضلے کو صحیح طریقے سے صاف کیا جا سکے۔پاکستان کے مختلف علاقوں میں رہائشی ضروریات   پاکستان کے مختلف جغرافیائی اور موسمی حالات کی بنا پر بھیڑوں اور بکریوں کے باڑے کی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔ مختلف علاقوں میں رہائش کی ضروریات کا جائزہ درجہ ذیل ہے: 
پہاڑی علاقے کشمیر خیبر پختونخوا
ان علاقوں میں سردی  سب سے زیادہ ہوتی ہے اسی لئے باڑوں کو اچھی طرح سے بند  کرنا ضروری ہے تاکہ جانوروں کو سرد ہوا اور برف باری سے بچا جا سکے۔ چھتوں کو زیادہ پائیدار بنانا چاہیے تاکہ برف کا بوجھ نہ پڑے۔ اس علاقے میں کھلے باڑے کی بجائے بند اور گرم رہائش زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔
صحرائی علاقے جیسا کہ بلوچستان
 یہاں گرمی زیادہ ہوتی ہے اس لئے باڑے کو کھلا اور ہوادار ہونا چاہیے تاکہ جانوروں کو گرمی سے بچایا جا سکے۔ سایہ فراہم کرنے کیلئے درختوں یا مصنوعی سروں کا انتظام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ گرم موسم کے دوران پانی کی فراہمی کا انتظام بھی اہم ہے تاکہ جانوروں کی گرمی کو روکا جا سکے۔
میدانی علاقے سندھ اور پنجاب
یہاں موسم معتدل ہوتا ہے اس لئے دونوں قسم کے موسم میں کھلے اور بند باڑے استعمال کئے جا سکتے ہیں مگر گرمی کے موسم میں سایہ دار ہوا کی بہترین گردش ضروری ہوتی ہے تاکہ جانوروں کو شدید گرمی سے بچایا جا سکے۔  سردی میں ان باڑوں میں کچھ اضافی گرمائش کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
موسمی حالات اور رہائشی تحفظ 
پاکستان کے مختلف حصوں میں موسمی حالات مختلف ہوتے ہیں اور ان موسمی اثرات سے بچنے کیلئے بھیڑوں اور بکریوں کی رہائش میں مختلف خاص اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسمی حالات کے مطابق رہائشی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ضروری تدابیر درجہ ذیل ہیں۔
گرمی اور دھوپ:
گرمی کا موسم خاص طور پر مشکل ثابت ہوتا ہے اس لئے باڑا ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں سایہ اور ہوا کی اچھی گردش ہو کہ جانور گرمی سے بچ سکیں۔ باڑے کے اطراف میں درختوں کا انتظام یا سایہ فراہم کرنے والے مواد جیسا کہ ترپال یا بانس کی چھتوں کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
بارش اور سیلاب:
بارش کے موسم میں باڑا ایسا ہونا چاہیے کہ پانی کا بہاؤ آسانی سے ہو سکے اور پانی باڑے میں نہ آئے۔ پاکستان میں سیلاب کی صورت میں باڑا کا انتخاب ایسا ہونا چاہیے کہ پانی سے بچاؤ کی تدابیر کی جا سکیں۔
سردی اور برف:
پہاڑی علاقوں میں سردیوں کے موسم میں باڑے کا دروازہ اور کھڑکیاں اچھی طرح بند ہونی چاہیے تاکہ ٹھنڈی ہوا اور برف باری سے بچا جا سکے۔ چھت اور دیواروں کی موٹائی زیادہ رکھنی چاہیے تاکہ حرارت برقرار رہے اور جانوروں کو سردی کا سامنا نہ ہو۔ 
ہوا اور آندھیاں: 
پاکستان میں طوفانی ہوائیں اور آندھیاں بھی آتی ہیں اس لئے باڑے کو اس طرح سے تعمیر کیا جانا چاہیے کہ یہ ہوا کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔ مضبوط بنیادوں اور جالیوں والے دروازوں کی تعمیر سے باڑے کی حفاظت کی جا سکتی ہے ۔
ہوا اور موسمی حالات کا رخ:
ہر علاقے میں باڑے کی ساخت مختلف ہو  سکتی ہے کیونکہ ہوا اور موسمی حالات کا رخ مختلف ہوتا ہے، کہیں پر مشرقی مغربی اور کہیں پر شمالی جنوبی، باڑے بنائے جاتے ہیں۔
باڑے کی صفائی اور بیماریوں سے بچاؤ:
 باڑا کی صفائی اور بیماریوں سے بچاؤ کیلئے چند اہم تدابیر اختیار کی جاتی ہیں تاکہ بھیڑوں اور بکریوں کی صحت برقرار رہے اور وہ بیماریوں سے محفوظ رہیں  ۔
باڑے کی صفائی:
باڑے کی روزانہ یا ہفتہ وار صفائی کرنا ضروری ہے تاکہ فضلہ اور گندگی کو جمع نہ ہونے دیا جائے۔فرش پر گھاس یا بچھونا ڈال کر اسے صاف رکھا جا سکتا ہے۔ گندگی اور فضلہ کو فوری طور پر صاف کرنے سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہوتا ہے 
ہوا کی صفائی:
ہوا کی صفائی کیلئے باڑے کی دیواروں اور چھتوں میں مناسب سوراخ یا کھڑکیاں رکھنی چاہیے تاکہ تازہ ہوا آتی رہے اور مضر گیس کا اخراج ہو سکے۔ فضلہ اور گندگی کے بھرنے سے واڑے میں بدبو اور بیکٹیریا کی افزائش ہوتی ہے جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
جراثیم سے بچاؤ:
باڑے کو جراثیم سے بچانے کیلئے خاص طور پر اینٹی بیکٹریل یا جراثیم کش ادویات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بکریوں اور بھیڑوں کیلئے مخصوص ویکسی نیشن اور صحت کی نگرانی ضروری ہے تاکہ بیماریوں  کا علاج کیا جا سکے۔
پیشاب اور فضلے کے انتظامات:
جانوروں کے پیشاب اور فضلے کا مناسب انتظام  کیا جانا چاہیے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہو۔ کھلے باڑے میں فضلے کو مناسب طریقے سے جمع کرنے اور اس کی صفائی کیلئے مخصوص سسٹم بنانا ضروری ہے۔ پاکستان میں بھیڑوں اور بکریوں کیلئے رہائش کا انتظام ان کی صحت اور پیداواری صلاحیت کیلئے انتہائی اہم ہے۔ موسمی حالات زمین کی نوعیت اور باڑے کی صفائی جیسے عوامل ان جانوروں کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مناسب باڑا نہ صرف جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے ضروری ہے بلکہ ان سے ان کی بیماریوں سے بچاؤ اور پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔(جاری ہے)
Keep reading

Related articles